EN हिंदी
جتیندر موہن سنہا رہبر شیاری | شیح شیری

جتیندر موہن سنہا رہبر شیر

20 شیر

پھر وہی سودا وہی وحشت وہی طرز جنوں
ہیں نشاں موجود سارے عشق کی تاثیر کے

جتیندر موہن سنہا رہبر




کھنچتے جاتے ہیں خود مری جانب
مجھ کو جیوں جیوں وہ آزماتے ہیں

جتیندر موہن سنہا رہبر




محو دیدار ہوئے جاتے ہیں رہ رو سارے
اک تماشہ ہوا گویا رخ دلبر نہ ہوا

جتیندر موہن سنہا رہبر




محبت میں نہیں ہے ابتدا یا انتہا کوئی
ہم اپنے عشق کو ہی عشق کی منزل سمجھتے ہیں

جتیندر موہن سنہا رہبر




محبت سی شے اس نے مجھ کو عطا کی
کہ خوش خوش چلوں عمر برباد کر کے

جتیندر موہن سنہا رہبر




تنگ پیمائی کا شکوہ ساقئ ازلی سے کیا
ہم نے سمجھا ہی نہیں دستور مے خانہ ابھی

جتیندر موہن سنہا رہبر




زمانہ یہ آ گیا ہے رہبرؔ کہ اہل بینش کو کون پوچھے
جمے ہیں مکار کرسیوں پر دکھا رہے ہیں گنوار آنکھیں

جتیندر موہن سنہا رہبر




تو نے ہی رہ نہ دکھائی تو دکھائے گا کون
ہم تری راہ میں گمراہ ہوئے بیٹھے ہیں

جتیندر موہن سنہا رہبر




کیسی کشش ہے عشق کے ٹوٹے مزار میں
میلہ لگا ہوا ہے ہمارے دیار میں

جتیندر موہن سنہا رہبر