EN हिंदी
عشق اورنگ آبادی شیاری | شیح شیری

عشق اورنگ آبادی شیر

18 شیر

کہیو خودبیں سے کہ آئینہ میں تنہا مت بیٹھ
خطر آسیب کا رہتا ہے پری خانے میں

عشق اورنگ آبادی




یہ بت حرص و ہوا کے دل کے جب کعبہ میں توڑوں گا
تمہاری سبحہ میں کب شیخ جی زنار چھوڑوں گا

عشق اورنگ آبادی




اس کی آنکھوں کے اگر وصف رقم کیجئے گا
شاخ نرگس کو قلم کر کے قلم کیجئے گا

عشق اورنگ آبادی




تو نے کیا دیکھا نہیں گل کا پریشاں احوال
غنچہ کیوں اینٹھا ہوا رہتا ہے زردار کی طرح

عشق اورنگ آبادی




شیوۂ افسردگی کو کم نہ بوجھ
خاک کا کہتے ہیں عالم پاک ہے

عشق اورنگ آبادی




نہیں معلوم دل میں بیٹھ کے کون
چشم کی دوربیں سے دیکھے ہے

عشق اورنگ آبادی




مقابل ہو ہمارے کسب تقلیدی سے کیا طاقت
ابھی ہم محو کر دیتے ہیں آئینہ کو اک ہو میں

عشق اورنگ آبادی




مزا آب بقا کا جان جاناں
ترا بوسہ لیا ہووے سو جانے

عشق اورنگ آبادی




لیلیٰ کا سیہ خیمہ یا آنکھ ہے ہرنوں کی
یہ شاخ غزالاں ہے یا نالۂ مجنوں ہے

عشق اورنگ آبادی