EN हिंदी
عرفان ستار شیاری | شیح شیری

عرفان ستار شیر

29 شیر

اسے بتایا نہیں ہجر میں جو حال ہوا
جو بات سب سے ضروری تھی وہ چھپا گیا ہوں

عرفان ستار




راز حق فاش ہوا مجھ پہ بھی ہوتے ہوتے
خود تک آ ہی گیا عرفانؔ بھٹکتا ہوا میں

عرفان ستار




تعلقات کے برزخ میں عین ممکن ہے
ذرا سا دکھ وہ مجھے دے تو میں ترا ہو جاؤں

عرفان ستار




تاب یک لحظہ کہاں حسن جنوں خیز کے پیش
سانس لینے سے توجہ میں خلل پڑتا ہے

عرفان ستار




تیرے ماضی کے ساتھ دفن کہیں
میرا اک واقعہ نہیں میں ہوں

عرفان ستار




تیری صورت میں تجھے ڈھونڈ رہا ہوں میں بھی
غالباً تو بھی مجھے ڈھونڈ رہا ہے مجھ میں

عرفان ستار




تم آ گئے ہو تو اب آئینہ بھی دیکھیں گے
ابھی ابھی تو نگاہوں میں روشنی ہوئی ہے

عرفان ستار




تمہیں فرصت ہو دنیا سے تو ہم سے آ کے ملنا
ہمارے پاس فرصت کے سوا کیا رہ گیا ہے

عرفان ستار




یونہی رکا تھا دم لینے کو، تم نے کیا سمجھا؟
ہار نہیں مانی تھی بس سستانے بیٹھا تھا

عرفان ستار