EN हिंदी
اقبال اشہر شیاری | شیح شیری

اقبال اشہر شیر

20 شیر

ستایا آج مناسب جگہ پہ بارش نے
اسی بہانے ٹھہر جائیں اس کا گھر ہے یہاں

اقبال اشہر




آج پھر نیند کو آنکھوں سے بچھڑتے دیکھا
آج پھر یاد کوئی چوٹ پرانی آئی

اقبال اشہر




پیاس دریا کی نگاہوں سے چھپا رکھی ہے
ایک بادل سے بڑی آس لگا رکھی ہے

اقبال اشہر




پھر ترا ذکر کیا باد صبا نے مجھ سے
پھر مرے دل کو دھڑکنے کے بہانے آئے

اقبال اشہر




نہ جانے کتنے چراغوں کو مل گئی شہرت
اک آفتاب کے بے وقت ڈوب جانے سے

اقبال اشہر




مدتوں بعد میسر ہوا ماں کا آنچل
مدتوں بعد ہمیں نیند سہانی آئی

اقبال اشہر




لے گئیں دور بہت دور ہوائیں جس کو
وہی بادل تھا مری پیاس بجھانے والا

اقبال اشہر




کسی کو کھو کے پا لیا کسی کو پا کے کھو دیا
نہ انتہا خوشی کی ہے نہ انتہا ملال کی

اقبال اشہر




جو اس کے ہونٹوں کی جنبش میں قید تھا اشہرؔ
وہ ایک لفظ بنا بوجھ میرے شانوں کا

اقبال اشہر