EN हिंदी
اقبال اشہر شیاری | شیح شیری

اقبال اشہر شیر

20 شیر

تیری باتوں کو چھپانا نہیں آتا مجھ سے
تو نے خوشبو مرے لہجے میں بسا رکھی ہے

اقبال اشہر




ستایا آج مناسب جگہ پہ بارش نے
اسی بہانے ٹھہر جائیں اس کا گھر ہے یہاں

اقبال اشہر




سوچتا ہوں تری تصویر دکھا دوں اس کو
روشنی نے کبھی سایہ نہیں دیکھا اپنا

اقبال اشہر




سنو سمندر کی شوخ لہرو ہوائیں ٹھہری ہیں تم بھی ٹھہرو
وہ دور ساحل پہ ایک بچہ ابھی گھروندے بنا رہا ہے

اقبال اشہر




تیرے کردار کو اتنا تو شرف حاصل ہے
تو نہیں تھا تو کہانی میں حقیقت کم تھی

اقبال اشہر




وہی تو مرکزی کردار ہے کہانی کا
اسی پہ ختم ہے تاثیر بے وفائی کی

اقبال اشہر




وہ کسی کو یاد کر کے مسکرایا تھا ادھر
اور میں نادان یہ سمجھا کہ وہ میرا ہوا

اقبال اشہر




ویسے بھی اس سے کوئی ربط نہ رکھا میں نے
یوں بھی دنیا میں کشش تیری بہ نسبت کم تھی

اقبال اشہر




سبھی اپنے نظر آتے ہیں بظاہر لیکن
روٹھنے والا ہے کوئی نہ منانے والا

اقبال اشہر