EN हिंदी
ہیرا لال فلک دہلوی شیاری | شیح شیری

ہیرا لال فلک دہلوی شیر

21 شیر

پرتو حسن ہوں اس واسطے محدود ہوں میں
حسن ہو جاؤں تو دنیا میں سما بھی نہ سکوں

ہیرا لال فلک دہلوی




مقام برق جسے آسماں بھی کہتے ہیں
ارادہ اب ہے وہاں اپنا گھر بنانے کا

ہیرا لال فلک دہلوی




مرا خط پڑھ لیا اس نے مگر یہ تو بتا قاصد
نظر آئی جبیں پر بوند بھی کوئی پسینے کی

ہیرا لال فلک دہلوی




نظروں میں حسن دل میں تمہارا خیال ہے
اتنے قریب ہو کہ تصور محال ہے

ہیرا لال فلک دہلوی




نیت اگر خراب ہوئی ہے حضور کی
گھڑ لو کوئی کہانی ہمارے قصور کی

ہیرا لال فلک دہلوی




پہنچو گر اک چاند پر سو اور آتے ہیں نظر
آسماں جانے ہے کتنی دور تک پھیلا ہوا

ہیرا لال فلک دہلوی




تن کو مٹی نفس کو ہوا لے گئی
موت کو کیا ملا موت کیا لے گئی

ہیرا لال فلک دہلوی




یاد اتنا ہے مرے لب پہ فغاں آئی تھی
پھر خدا جانے کہاں دل کی یہ آواز گئی

ہیرا لال فلک دہلوی




وسعت طلسم خانۂ عالم کی کیا کہوں
تھک تھک گئی نگاہ تماشے نہ کم ہوئے

ہیرا لال فلک دہلوی