EN हिंदी
حنیف اخگر شیاری | شیح شیری

حنیف اخگر شیر

32 شیر

پل بھر نہ بجلیوں کے مقابل ٹھہر سکے
اتنا بھی کم سواد مرا آشیاں کہاں

حنیف اخگر




کافر سہی ہزار مگر اس کو کیا کہیں
ہم پر وہ مہرباں ہے مسلمان کی طرح

حنیف اخگر




خلوت جاں میں ترا درد بسانا چاہے
دل سمندر میں بھی دیوار اٹھانا چاہے

حنیف اخگر




کسی کے جور مسلسل کا فیض ہے اخگرؔ
وگرنہ درد ہمارے سخن میں کتنا تھا

حنیف اخگر




کوئی ساغر پہ ساغر پی رہا ہے کوئی تشنہ ہے
مرتب اس طرح آئین مے خانہ نہیں ہوتا

حنیف اخگر




کشتۂ ضبط فغاں نغمۂ بے ساز و صدا
اف وہ آنسو جو لہو بن کے ٹپکتا ہوگا

حنیف اخگر




لوگ ملنے کو چلے آتے ہیں دیوانے سے
شہر کا ایک تعلق تو ہے ویرانے سے

حنیف اخگر




نگاہیں پھیرنے والے یہ نظریں اٹھ ہی جاتی ہیں
کبھی بیگانگی وجہ شناسائی بھی ہوتی ہے

حنیف اخگر




یاد فروغ دست حنائی نہ پوچھیے
ہر زخم دل کو رشک نمک داں بنا دیا

حنیف اخگر