تدبیر کے دست رنگیں سے تقدیر درخشاں ہوتی ہے
قدرت بھی مدد فرماتی ہے جب کوشش انساں ہوتی ہے
حفیظ بنارسی
کچھ اس کے سنور جانے کی تدبیر نہیں ہے
دنیا ہے تری زلف گرہ گیر نہیں ہے
حفیظ بنارسی
میں نے آباد کیے کتنے ہی ویرانے حفیظؔ
زندگی میری اک اجڑی ہوئی محفل ہی سہی
حفیظ بنارسی
ملے فرصت تو سن لینا کسی دن
مرا قصہ نہایت مختصر ہے
حفیظ بنارسی
پھول افسردہ بلبلیں خاموش
فصل گل آئی ہے خزاں بر دوش
حفیظ بنارسی
سبھی کے دیپ سندر ہیں ہمارے کیا تمہارے کیا
اجالا ہر طرف ہے اس کنارے اس کنارے کیا
حفیظ بنارسی
سمجھ کے آگ لگانا ہمارے گھر میں تم
ہمارے گھر کے برابر تمہارا بھی گھر ہے
حفیظ بنارسی
وفا نظر نہیں آتی کہیں زمانے میں
وفا کا ذکر کتابوں میں دیکھ لیتے ہیں
حفیظ بنارسی
یہ کس مقام پہ لائی ہے زندگی ہم کو
ہنسی لبوں پہ ہے سینے میں غم کا دفتر ہے
حفیظ بنارسی

