EN हिंदी
حفیظ بنارسی شیاری | شیح شیری

حفیظ بنارسی شیر

25 شیر

پھول افسردہ بلبلیں خاموش
فصل گل آئی ہے خزاں بر دوش

حفیظ بنارسی




ملے فرصت تو سن لینا کسی دن
مرا قصہ نہایت مختصر ہے

حفیظ بنارسی




میں نے آباد کیے کتنے ہی ویرانے حفیظؔ
زندگی میری اک اجڑی ہوئی محفل ہی سہی

حفیظ بنارسی




کچھ اس کے سنور جانے کی تدبیر نہیں ہے
دنیا ہے تری زلف گرہ گیر نہیں ہے

حفیظ بنارسی




آسان نہیں مرحلۂ ترک وفا بھی
مدت ہوئی ہم اس کو بھلانے میں لگے ہیں

حفیظ بنارسی




کس منہ سے کریں ان کے تغافل کی شکایت
خود ہم کو محبت کا سبق یاد نہیں ہے

حفیظ بنارسی




کبھی خرد کبھی دیوانگی نے لوٹ لیا
طرح طرح سے ہمیں زندگی نے لوٹ لیا

حفیظ بنارسی




جو پردوں میں خود کو چھپائے ہوئے ہیں
قیامت وہی تو اٹھائے ہوئے ہیں

حفیظ بنارسی




عشق میں معرکۂ قلب و نظر کیا کہئے
چوٹ لگتی ہے کہیں درد کہیں ہوتا ہے

حفیظ بنارسی