کبھی بے کلی کبھی بے دلی ہے عجیب عشق کی زندگی
کبھی غنچہ پہ جاں فدا کبھی گلستاں سے غرض نہیں
حبیب احمد صدیقی
مجھ کو احساس رنگ و بو نہ ہوا
یوں بھی اکثر بہار آئی ہے
حبیب احمد صدیقی
میرے لئے جینے کا سہارا ہے ابھی تک
وہ عہد تمنا کہ تمہیں یاد نہ ہوگا
حبیب احمد صدیقی
موت کے بعد بھی مرنے پہ نہ راضی ہونا
یہی احساس تو سرمایۂ دیں ہوتا ہے
حبیب احمد صدیقی
کتنے صنم خود ہم نے تراشے
ذوق پرستش اللہ اکبر
حبیب احمد صدیقی
جس کے واسطے برسوں سعئ رائیگاں کی ہے
اب اسے بھلانے کی سعئ رائیگاں کر لیں
حبیب احمد صدیقی
جب کوئی فتنۂ ایام نہیں ہوتا ہے
زندگی کا بڑی مشکل سے یقیں ہوتا ہے
حبیب احمد صدیقی
نہ ہو کچھ اور تو وہ دل عطا ہو
بہل جائے جو سعیٔ رائیگاں سے
حبیب احمد صدیقی
جو کام کرنے ہیں اس میں نہ چاہئے تاخیر
کبھی پیام اجل ناگہاں بھی آتا ہے
حبیب احمد صدیقی

