EN हिंदी
گویا فقیر محمد شیاری | شیح شیری

گویا فقیر محمد شیر

24 شیر

سارے قرآن سے اس پری رو کو
یاد اک لفظ لن ترانی ہے

گویا فقیر محمد




نہ ہوگا کوئی مجھ سا محو تصور
جسے دیکھتا ہوں سمجھتا ہوں تو ہے

گویا فقیر محمد




نہ مر کے بھی تری صورت کو دیکھنے دوں گا
پڑوں گا غیر کی آنکھوں میں وہ غبار ہوں میں

گویا فقیر محمد




ناصحا عاشقی میں رکھ معذور
کیا کروں عالم جوانی ہے

گویا فقیر محمد




نہیں بچتا ہے بیمار محبت
سنا ہے ہم نے گویاؔ کی زبانی

گویا فقیر محمد




نقش پا پنج شاخہ قبر پر روشن کرو
مر گیا ہوں میں تمہاری گرمیٔ رفتار پر

گویا فقیر محمد




وہ طفل نصیری آئے شاید
قسمیں دوں مرتضیٰ علی کی

گویا فقیر محمد




ضعف سے رہتا ہے اب پاؤں پہ سر
آپ اپنی ٹھوکریں کھاتے ہیں ہم

گویا فقیر محمد




زاہدو قدرت خدا دیکھو
بت کو بھی دعوی خدائی ہے

گویا فقیر محمد