EN हिंदी
فضا ابن فیضی شیاری | شیح شیری

فضا ابن فیضی شیر

29 شیر

تو ہے معنی پردۂ الفاظ سے باہر تو آ
ایسے پس منظر میں کیا رہنا سر منظر تو آ

فضا ابن فیضی




لوگ مجھ کو مرے آہنگ سے پہچان گئے
کون بدنام رہا شہر سخن میں ایسا

فضا ابن فیضی




مجھے تراش کے رکھ لو کہ آنے والا وقت
خزف دکھا کے گہر کی مثال پوچھے گا

فضا ابن فیضی




نطق سے لب تک ہے صدیوں کا سفر
خامشی یہ دکھ بھلا جھیلے گی کیا

فضا ابن فیضی




پلکوں پر اپنی کون مجھے اب سجائے گا
میں ہوں وہ رنگ جو ترے پیکر سے کٹ گیا

فضا ابن فیضی




شخصیت کا یہ توازن تیرا حصہ ہے فضاؔ
جتنی سادہ ہے طبیعت اتنا ہی تیکھا ہنر

فضا ابن فیضی




تلاش معنی مقصود اتنی سہل نہ تھی
میں لفظ لفظ اترتا گیا بہت گہرا

فضا ابن فیضی




تجھے ہوس ہو جو مجھ کو ہدف بنانے کی
مجھے بھی تیر کی صورت کماں میں رکھ دینا

فضا ابن فیضی




یوں معانی سے بہت خاص ہے رشتہ اپنا
زندگی کٹ گئی لفظوں کو خبر کرنے میں

فضا ابن فیضی