EN हिंदी
فارغ بخاری شیاری | شیح شیری

فارغ بخاری شیر

18 شیر

منصور سے کم نہیں ہے وہ بھی
جو اپنی زباں سے بولتا ہے

فارغ بخاری




زندگی میں ایسی کچھ طغیانیاں آتی رہیں
بہہ گئیں ہیں عمر بھر کی نیکیاں دریاؤں میں

فارغ بخاری




یہی ہے دور غم عاشقی تو کیا ہوگا
اسی طرح سے کٹی زندگی تو کیا ہوگا

فارغ بخاری




یاد آئیں گے زمانے کو مثالوں کے لیے
جیسے بوسیدہ کتابیں ہوں حوالوں کے لیے

فارغ بخاری




تمہارے ساتھ ہی اس کو بھی ڈوب جانا ہے
یہ جانتا ہے مسافر ترے سفینے کا

فارغ بخاری




سفر میں کوئی کسی کے لیے ٹھہرتا نہیں
نہ مڑ کے دیکھا کبھی ساحلوں کو دریا نے

فارغ بخاری




پکارا جب مجھے تنہائی نے تو یاد آیا
کہ اپنے ساتھ بہت مختصر رہا ہوں میں

فارغ بخاری




نئی منزل کا جنوں تہمت گمراہی ہے
پا شکستہ بھی تری راہ میں کہلایا ہوں

فارغ بخاری




محبتوں کی شکستوں کا اک خرابہ ہوں
خدارا مجھ کو گراؤ کہ میں دوبارا بنوں

فارغ بخاری