سنا ہے امن پرستوں کا وہ علاقہ ہے
وہیں شکار کبوتر ہوا تو کیسے ہوا
فراغ روہوی
مجھ میں ہے یہی عیب کہ اوروں کی طرح میں
چہرے پہ کبھی دوسرا چہرا نہیں رکھتا
فراغ روہوی
نہ چاند نے کیا روشن مجھے نہ سورج نے
تو میں جہاں میں منور ہوا تو کیسے ہوا
فراغ روہوی
نہ جانے کیسا سمندر ہے عشق کا جس میں
کسی کو دیکھا نہیں ڈوب کے ابھرتے ہوئے
فراغ روہوی
نفرت کے سنسار میں کھیلیں اب یہ کھیل
اک اک انساں جوڑ کے بن جائیں ہم ریل
فراغ روہوی
اسی طرف ہے زمانہ بھی آج محو سفر
فراغؔ میں نے جدھر سے گزرنا چاہا تھا
فراغ روہوی
ذرا سی بات پہ کیا کیا نہ کھو دیا میں نے
جو تم نے کھویا ہے اس کا شمار تم بھی کرو
فراغ روہوی
یارو حدود غم سے گزرنے لگا ہوں میں
مجھ کو سمیٹ لو کہ بکھرنے لگا ہوں میں
فراغ روہوی
مری میلی ہتھیلی پر تو بچپن سے
غریبی کا کھرا سونا چمکتا ہے
فراغ روہوی

