رہتا ہے وہاں ذکر طہور و مئے کوثر
ہم آج سے کعبہ کو بھی مے خانہ کہیں گے
فنا نظامی کانپوری
سہتا رہا جفائے دوست کہتا رہا ادائے دوست
میرے خلوص نے مرا جینا محال کر دیا
فنا نظامی کانپوری
سب ہوں گے اس سے اپنے تعارف کی فکر میں
مجھ کو مرے سکوت سے پہچان جائے گا
فنا نظامی کانپوری
ساحل کے تماشائی ہر ڈوبنے والے پر
افسوس تو کرتے ہیں امداد نہیں کرتے
to a drowning person, they on the shores who stand
do lend their sympathy, but not a helping hand
فنا نظامی کانپوری
رند جنت میں جا بھی چکے
واعظ محترم رہ گئے
فنا نظامی کانپوری
موجوں کے اتحاد کا عالم نہ پوچھئے
قطرہ اٹھا اور اٹھ کے سمندر اٹھا لیا
فنا نظامی کانپوری
میں اس کے سامنے سے گزرتا ہوں اس لیے
ترک تعلقات کا احساس مر نہ جائے
it is for this reason, I often pass her by
the pain of our breaking up, may not ever die
فنا نظامی کانپوری
ترک تعلقات کو اک لمحہ چاہیئے
لیکن تمام عمر مجھے سوچنا پڑا
فنا نظامی کانپوری
قید غم حیات بھی کیا چیز ہے فناؔ
راہ فرار مل نہ سکی عمر بھر پھرے
فنا نظامی کانپوری

