EN हिंदी
اعجاز گل شیاری | شیح شیری

اعجاز گل شیر

25 شیر

نہیں کھلتا کہ آخر یہ طلسماتی تماشا سا
زمیں کے اس طرف اور آسماں کے اس طرف کیا ہے

اعجاز گل




جو قصہ گو نے سنایا وہی سنا گیا ہے
اگر تھا اس سے سوا تو نہیں کہا گیا ہے

اعجاز گل




کبھی قطار سے باہر کبھی قطار کے بیچ
میں ہجر زاد ہوا خرچ انتظار کے بیچ

اعجاز گل




کوئی سبب تو ہے ایسا کہ ایک عمر سے ہیں
زمانہ مجھ سے خفا اور میں زمانے سے

اعجاز گل




کچھ دیر ٹھہر اور ذرا دیکھ تماشا
ناپید ہیں یہ رونقیں اس خاک سے باہر

اعجاز گل




میں عمر کو تو مجھے عمر کھینچتی ہے الٹ
تضاد سمت کا ہے اسپ اور سوار کے بیچ

اعجاز گل




مشق سخن میں دل بھی ہمیشہ سے ہے شریک
لیکن ہے اس میں کام زیادہ دماغ کا

اعجاز گل




قسمت کی خرابی ہے کہ جاتا ہوں غلط سمت
پڑتا ہے بیابان بیابان سے آگے

اعجاز گل




اٹھا رکھی ہے کسی نے کمان سورج کی
گرا رہا ہے مرے رات دن نشانے سے

اعجاز گل