EN हिंदी
دشینتؔ کمار شیاری | شیح شیری

دشینتؔ کمار شیر

19 شیر

نظر نواز نظارہ بدل نہ جائے کہیں
ذرا سی بات ہے منہ سے نکل نہ جائے کہیں

دشینتؔ کمار




زندگی جب عذاب ہوتی ہے
عاشقی کامیاب ہوتی ہے

دشینتؔ کمار




یہ سوچ کر کہ درختوں میں چھاؤں ہوتی ہے
یہاں ببول کے سائے میں آ کے بیٹھ گئے

دشینتؔ کمار




یہ سارا جسم جھک کر بوجھ سے دہرا ہوا ہوگا
میں سجدے میں نہیں تھا آپ کو دھوکا ہوا ہوگا

دشینتؔ کمار




یہ لوگ ہومو ہون میں یقین رکھتے ہیں
چلو یہاں سے چلیں ہاتھ جل نہ جائے کہیں

دشینتؔ کمار




یہاں تک آتے آتے سوکھ جاتی ہے کئی ندیاں
مجھے معلوم ہے پانی کہاں ٹھہرا ہوا ہوگا

دشینتؔ کمار




وو آدمی نہیں ہے مکمل بیان ہے
ماتھے پہ اس کے چوٹ کا گہرا نشان ہے

دشینتؔ کمار




تمہارے پاؤں کے نیچے کوئی زمین نہیں
کمال یہ ہے کہ پھر بھی تمہیں یقین نہیں

دشینتؔ کمار




ترا نظام ہے سل دے زبان شاعر کو
یہ احتیاط ضروری ہے اس بحر کے لیے

دشینتؔ کمار