EN हिंदी
بسمل سعیدی شیاری | شیح شیری

بسمل سعیدی شیر

19 شیر

میرے دل کو بھی پڑا رہنے دو
چیز رکھی ہوئی کام آتی ہے

بسمل سعیدی




زمانہ سازیوں سے میں ہمیشہ دور رہتا ہیں
مجھے ہر شخص کے دل میں اتر جانا نہیں آتا

بسمل سعیدی




تم جب آتے ہو تو جانے کے لیے آتے ہو
اب جو آ کر تمہیں جانا ہو تو آنا بھی نہیں

بسمل سعیدی




ٹھوکر کسی پتھر سے اگر کھائی ہے میں نے
منزل کا نشاں بھی اسی پتھر سے ملا ہے

بسمل سعیدی




سکوں نصیب ہوا ہو کبھی جو تیرے بغیر
خدا کرے کہ مجھے تو کبھی نصیب نہ ہو

بسمل سعیدی




سر جس پہ نہ جھک جائے اسے در نہیں کہتے
ہر در پہ جو جھک جائے اسے سر نہیں کہتے

بسمل سعیدی




رو رہا ہوں آج میں سارے جہاں کے سامنے
روئے گا کل دیکھنا سارا جہاں میرے لیے

بسمل سعیدی




نا امیدی ہے بری چیز مگر
ایک تسکین سی ہو جاتی ہے

بسمل سعیدی




نا امیدی ہے بری چیز مگر
ایک تسکین سی ہو جاتی ہے

بسمل سعیدی