مجبوریوں کو اپنی کہیں کیا کسی سے ہم
لائے گئے ہیں، آئے نہیں ہیں خوشی سے ہم
بسملؔ عظیم آبادی
کیا کریں جام و سبو ہاتھ پکڑ لیتے ہیں
جی تو کہتا ہے کہ اٹھ جائیے مے خانے سے
بسملؔ عظیم آبادی
اللہ تیرے ہاتھ ہے اب آبروئے شوق
دم گھٹ رہا ہے وقت کی رفتار دیکھ کر
بسملؔ عظیم آبادی
جرأت شوق تو کیا کچھ نہیں کہتی لیکن
پاؤں پھیلانے نہیں دیتی ہے چادر مجھ کو
بسملؔ عظیم آبادی
اک غلط سجدے سے کیا ہوتا ہے واعظ کچھ نہ پوچھ
عمر بھر کی سب ریاضت خاک میں مل جائے ہے
بسملؔ عظیم آبادی
ہو نہ مایوس خدا سے بسملؔ
یہ برے دن بھی گزر جائیں گے
بسملؔ عظیم آبادی
ہنسی بسملؔ کی حالت پر کسی کو
کبھی آتی تھی اب آتی نہیں ہے
بسملؔ عظیم آبادی
غیروں نے غیر جان کے ہم کو اٹھا دیا
بیٹھے جہاں بھی سایۂ دیوار دیکھ کر
بسملؔ عظیم آبادی
ایک دن وہ دن تھے رونے پہ ہنسا کرتے تھے ہم
ایک یہ دن ہیں کہ اب ہنسنے پہ رونا آئے ہے
بسملؔ عظیم آبادی

