تم سن کے کیا کرو گے کہانی غریب کی
جو سب کی سن رہا ہے کہیں گے اسی سے ہم
بسملؔ عظیم آبادی
کیا کریں جام و سبو ہاتھ پکڑ لیتے ہیں
جی تو کہتا ہے کہ اٹھ جائیے مے خانے سے
بسملؔ عظیم آبادی
مجبوریوں کو اپنی کہیں کیا کسی سے ہم
لائے گئے ہیں، آئے نہیں ہیں خوشی سے ہم
بسملؔ عظیم آبادی
نہ اپنے ضبط کو رسوا کرو ستا کے مجھے
خدا کے واسطے دیکھو نہ مسکرا کے مجھے
بسملؔ عظیم آبادی
رہرو راہ محبت رہ نہ جانا راہ میں
لذت صحرا نوردی دورئ منزل میں ہے
بسملؔ عظیم آبادی
سودا وہ کیا کرے گا خریدار دیکھ کر
گھبرا گیا جو گرمئ بازار دیکھ کر
بسملؔ عظیم آبادی
وقت آنے دے دکھا دیں گے تجھے اے آسماں
ہم ابھی سے کیوں بتائیں کیا ہمارے دل میں ہے
بسملؔ عظیم آبادی
یہ زندگی بھی کوئی زندگی ہوئی بسملؔ
نہ رو سکے نہ کبھی ہنس سکے ٹھکانے سے
بسملؔ عظیم آبادی
یہ کہہ کے دیتی جاتی ہے تسکیں شب فراق
وہ کون سی ہے رات کہ جس کی سحر نہ ہو
بسملؔ عظیم آبادی

