تمام لالہ و گل کے چراغ روشن ہیں
شجر شجر پہ شگوفوں میں جل رہی ہے ہوا
بلقیس ظفیر الحسن
خود پہ یہ ظلم گوارا نہیں ہوگا ہم سے
ہم تو شعلوں سے نہ گزریں گے نہ سیتا سمجھیں
بلقیس ظفیر الحسن
کتنے سادہ ہیں ہم کہ بیٹھے ہیں
داغ دل آنسوؤں سے دھونے کو
بلقیس ظفیر الحسن
میری طرح ٹوٹے آئینے میں اس نے بھی
ٹکڑے ٹکڑے اپنے آپ کو پایا ہوگا
بلقیس ظفیر الحسن
نہیں ہے خواب دیوانے کا ہستی
یہ دنیا صرف اک دھوکا نہیں ہے
بلقیس ظفیر الحسن
اٹھ کر چلے گئے تو کبھی پھر نہ آئیں گے
پھر لاکھ تم بلاؤ صدائیں دیا کرو
بلقیس ظفیر الحسن
ذرا سی دیر بھی رکتا تو کچھ پتا چلتا
وہ رنگ تھا کہ تھی خوشبو سحاب سا کیا تھا
بلقیس ظفیر الحسن
یوں چپ رہا کرے سے تو ہو جائے ہے جنوں
زخم نہاں کرید کے کچھ رو لیا کرو
بلقیس ظفیر الحسن
خود اپنی فکر اگاتی ہے وہم کے کانٹے
الجھ الجھ کے مرا ہر سوال ٹھہرا ہے
بلقیس ظفیر الحسن

