EN हिंदी
بھارتیندو ہریش چندر شیاری | شیح شیری

بھارتیندو ہریش چندر شیر

20 شیر

نہ بوسہ لینے دیتے ہیں نہ لگتے ہیں گلے میرے
ابھی کم عمر ہیں ہر بات پر مجھ سے جھجکتے ہیں

بھارتیندو ہریش چندر




کسی پہلو نہیں آرام آتا تیرے عاشق کو
دل مضطر تڑپتا ہے نہایت بے قراری ہے

بھارتیندو ہریش چندر




کسی پہلو نہیں چین آتا ہے عشاق کو تیرے
تڑپتے ہیں فغاں کرتے ہیں اور کروٹ بدلتے ہیں

بھارتیندو ہریش چندر




مر گئے ہم پر نہ آئے تم خبر کو اے صنم
حوصلہ اب دل کا دل ہی میں مری جاں رہ گیا

بھارتیندو ہریش چندر




مثل سچ ہے بشر کی قدر نعمت بعد ہوتی ہے
سنا ہے آج تک ہم کو بہت وہ یاد کرتے ہیں

بھارتیندو ہریش چندر




رخ روشن پہ اس کی گیسوئے شب گوں لٹکتے ہیں
قیامت ہے مسافر راستہ دن کو بھٹکتے ہیں

بھارتیندو ہریش چندر




یہ کہہ دو بس موت سے ہو رخصت کیوں ناحق آئی ہے اس کی شامت
کہ در تلک وہ مسیح خصلت مری عیادت کو آ چکے ہیں

بھارتیندو ہریش چندر




یہ چار دن کے تماشے ہیں آہ دنیا کے
رہا جہاں میں سکندر نہ اور نہ جم باقی

بھارتیندو ہریش چندر




کس گل کے تصور میں ہے اے لالہ جگر خوں
یہ داغ کلیجے پہ اٹھانا نہیں اچھا

بھارتیندو ہریش چندر