EN हिंदी
عزیز حامد مدنی شیاری | شیح شیری

عزیز حامد مدنی شیر

37 شیر

مرا چاک گریباں چاک دل سے ملنے والا ہے
مگر یہ حادثے بھی بیش و کم ہوتے ہی رہتے ہیں

عزیز حامد مدنی




شہر جن کے نام سے زندہ تھا وہ سب اٹھ گئے
اک اشارے سے طلب کرتا ہے ویرانہ مجھے

عزیز حامد مدنی




صدیوں میں جا کے بنتا ہے آخر مزاج دہر
مدنیؔ کوئی تغیر عالم ہے بے سبب

عزیز حامد مدنی




نرمی ہوا کی موج طرب خیز ابھی سے ہے
اے ہم صفیر آتش گل تیز ابھی سے ہے

عزیز حامد مدنی




مبہم سے ایک خواب کی تعبیر کا ہے شوق
نیندوں میں بادلوں کا سفر تیز ابھی سے ہے

عزیز حامد مدنی




مہک میں زہر کی اک لہر بھی خوابیدہ رہتی ہے
ضدیں آپس میں ٹکراتی ہیں فرق مار و صندل کر

عزیز حامد مدنی




کچھ اب کے ہم بھی کہیں اس کی داستان وصال
مگر وہ زلف پریشاں کھلے تو بات چلے

عزیز حامد مدنی




مانا کہ زندگی میں ہے ضد کا بھی ایک مقام
تم آدمی ہو بات تو سن لو خدا نہیں

عزیز حامد مدنی




صبح سے چلتے چلتے آخر شام ہوئی آوارۂ دل
اب میں کس منزل میں پہنچا اب گھر کتنی دور رہا

عزیز حامد مدنی