نقش مٹتے ہیں تو آتا ہے خیال
ریت پر ہم بھی کہاں تھے پہلے
اظہر عنایتی
سنبھل کے چلنے کا سارا غرور ٹوٹ گیا
اک ایسی بات کہی اس نے لڑکھڑاتے ہوئے
اظہر عنایتی
سب دیکھ کر گزر گئے اک پل میں اور ہم
دیوار پر بنے ہوئے منظر میں کھو گئے
اظہر عنایتی
پرانے عہد میں بھی دشمنی تھی
مگر ماحول زہریلا نہیں تھا
اظہر عنایتی
پلٹ چلیں کہ غلط آ گئے ہمیں شاید
رئیس لوگوں سے ملنے کے وقت ہوتے ہیں
اظہر عنایتی
میری خاموشی پہ تھے جو طعنہ زن
شور میں اپنے ہی بہرے ہو گئے
اظہر عنایتی
لوگ یوں کہتے ہیں اپنے قصے
جیسے وہ شاہ جہاں تھے پہلے
اظہر عنایتی
میں جسے ڈھونڈنے نکلا تھا اسے پا نہ سکا
اب جدھر جی ترا چاہے مجھے خوشبو لے جا
اظہر عنایتی
شکستگی میں بھی کیا شان ہے عمارت کی
کہ دیکھنے کو اسے سر اٹھانا پڑتا ہے
اظہر عنایتی

