EN हिंदी
اظہر ادیب شیاری | شیح شیری

اظہر ادیب شیر

36 شیر

میں اس کا نام لے بیٹھا تھا اک دن
زمانے کو بہانہ چاہئے تھا

اظہر ادیب




سمجھ میں آ تو سکتی ہے صبا کی گفتگو بھی
مگر اس کے لیے معصوم ہونا لازمی ہے

اظہر ادیب




سارے منظر میں سمایا ہوا لگتا ہے مجھے
کوئی اس شہر میں آیا ہوا لگتا ہے مجھے

اظہر ادیب




نکل آیا ہوں آگے اس جگہ سے
جہاں سے لوٹ جانا چاہیے تھا

اظہر ادیب




میرے ہرے وجود سے پہچان اس کی تھی
بے چہرہ ہو گیا ہے وہ جب سے جھڑا ہوں میں

اظہر ادیب




لوگو ہم تو ایک ہی صورت میں ہتھیار اٹھاتے ہیں
جب دشمن ہو اپنے جیسا خود سر بھی اور ہمسر بھی

اظہر ادیب




لہجے اور آواز میں رکھا جاتا ہے
اب تو زہر الفاظ میں رکھا جاتا ہے

اظہر ادیب




شب بھر آنکھ میں بھیگا تھا
پورے دن میں سوکھا خواب

اظہر ادیب




میں جس لمحے کو زندہ کر رہا ہوں مدتوں سے
وہی لمحہ مرا انکار کرنا چاہتا ہے

اظہر ادیب