EN हिंदी
اطہر نادر شیاری | شیح شیری

اطہر نادر شیر

22 شیر

تجھ سے بچھڑ کے ہم تو یہی سوچتے رہے
یہ گردش حیات نہ آئے گی راس کیا

اطہر نادر




کوئی نہیں ہے ایسا کہ اپنا کہیں جسے
کیسا طلسم ٹوٹا ہے اپنے گمان کا

اطہر نادر




لوگ کیا سادہ ہیں امید وفا رکھتے ہیں
جیسے معلوم نہیں ان کو حقیقت تیری

اطہر نادر




لوگ قسمت پہ چھوڑ دیتے ہیں
بات بنتی نہیں ہے جب کچھ بھی

اطہر نادر




رات آنگن میں چاند اترا تھا
تم ملے تھے کہ خواب دیکھا تھا

اطہر نادر




سکون قلب تو کیا ہے قرار جاں بھی لٹا
تمہاری یاد بھی آئی تو راہزن کی طرح

اطہر نادر




وہ عشق جس کی زمانے کو بھی خبر نہ رہی
ترے بچھڑنے سے رسوا نگر نگر میں رہا

اطہر نادر




یہ انقلاب زمانہ نہیں تو پھر کیا ہے
امیر شہر جو کل تھا وہ ہے فقیروں میں

اطہر نادر




یہ اپنا اپنا مقدر ہے اس کو کیا کہئے
تجھے سراب تو دریا بنا دیا ہے مجھے

اطہر نادر