قاصد پیام ان کا نہ کچھ دیر ابھی سنا
رہنے دے محو لذت ذوق خبر مجھے
اثر لکھنوی
کچھ دیر فکر عالم بالا کی چھوڑ دو
اس انجمن کا راز اسی انجمن میں ہے
thoughts of paradise for a while do leave aside
the secrets of this life do in this world reside
اثر لکھنوی
کیا کیا دعائیں مانگتے ہیں سب مگر اثرؔ
اپنی یہی دعا ہے کوئی مدعا نہ ہو
اثر لکھنوی
پلکیں گھنیری گوپیوں کی ٹوہ لیے ہوئے
رادھا کے جھانکنے کا جھروکہ غضب غضب
اثر لکھنوی
پھرتے ہوئے کسی کی نظر دیکھتے رہے
دل خون ہو رہا تھا مگر دیکھتے رہے
اثر لکھنوی
تمہارا حسن آرائش تمہاری سادگی زیور
تمہیں کوئی ضرورت ہی نہیں بننے سنورنے کی
اثر لکھنوی
زندگی اور زندگی کی یادگار
پردہ اور پردے پہ کچھ پرچھائیاں
اثر لکھنوی
یہ سوچتے ہی رہے اور بہار ختم ہوئی
کہاں چمن میں نشیمن بنے کہاں نہ بنے
i kept contemplating, spring came and went away
where in the garden should I make my nest today
اثر لکھنوی
کرم پر بھی ہوتا ہے دھوکا ستم کا
یہاں تک الم آشنا ہو گئے ہم
اثر لکھنوی

