کچھ دیر فکر عالم بالا کی چھوڑ دو
اس انجمن کا راز اسی انجمن میں ہے
thoughts of paradise for a while do leave aside
the secrets of this life do in this world reside
اثر لکھنوی
آہ کس سے کہیں کہ ہم کیا تھے
سب یہی دیکھتے ہیں کیا ہیں ہم
اثر لکھنوی
جو سزا دیجے ہے بجا مجھ کو
تجھ سے کرنی نہ تھی وفا مجھ کو
whatever punishment you mete, will be surely meet,
i should not have loved you so, my freedom is forfeit
اثر لکھنوی
جو آپ کہیں اس میں یہ پہلو ہے وہ پہلو
اور ہم جو کہیں بات میں وہ بات نہیں ہے
اثر لکھنوی
عشق سے لوگ منع کرتے ہیں
جیسے کچھ اختیار ہے اپنا
اثر لکھنوی
اک بات بھلا پوچھیں کس طرح مناؤ گے
جیسے کوئی روٹھا ہے اور تم کو منانا ہے
اثر لکھنوی
ادھر سے آج وہ گزرے تو منہ پھیرے ہوئے گزرے
اب ان سے بھی ہماری بے کسی دیکھی نہیں جاتی
اثر لکھنوی
بھولنے والے کو شاید یاد وعدہ آ گیا
مجھ کو دیکھا مسکرایا خود بہ خود شرما گیا
اثر لکھنوی
بہانہ مل نہ جائے بجلیوں کو ٹوٹ پڑنے کا
کلیجہ کانپتا ہے آشیاں کو آشیاں کہتے
اثر لکھنوی

