EN हिंदी
انجم رومانی شیاری | شیح شیری

انجم رومانی شیر

19 شیر

کسی بھی حال میں راضی نہیں ہے دل ہم سے
ہر اک طرح کا یہ کافر بہانہ رکھتا ہے

انجم رومانی




یہ جتنے مسئلے ہیں مشغلے ہیں سب فراغت کے
نہ تم بیکار بیٹھے ہو نہ ہم بیکار بیٹھے ہیں

انجم رومانی




سمجھی گئی جو بات ہماری غلط تو کیا
یاں ترجمہ کچھ اور ہے آیت کچھ اور ہے

انجم رومانی




سچ کے سودے میں نہ پڑنا کہ خسارا ہوگا
جو ہوا حال ہمارا سو تمہارا ہوگا

انجم رومانی




رہے ذرا دل خوں گشتہ پر نظر انجمؔ
اسی صدف سے عجب کیا گہر نکل آئے

انجم رومانی




قلندری ہے کہ رکھتا ہے دل غنی انجمؔ
کوئی دکاں نہ کوئی کارخانہ رکھتا ہے

انجم رومانی




پی جاتے ہیں زہر غم ہستی ہو کہ مے ہو
ہم سا بھی زمانے میں بلانوش نہ ہوگا

انجم رومانی




پاپ کرو جی کھول کر دھبوں کی کیا سوچ
جب جی چاہا دھو لیے گنگا جل کے ساتھ

انجم رومانی




نئی زندگی کے نئے مکر و فن
نئے آدمی کی نئی چال ڈھال

انجم رومانی