مجھے کر کے چپ کوئی کہتا ہے ہنس کر
انہیں بات کرنے کی عادت نہیں ہے
آنند نرائن ملا
نظر جس کی طرف کر کے نگاہیں پھیر لیتے ہو
قیامت تک پھر اس دل کی پریشانی نہیں جاتی
آنند نرائن ملا
نہ جانے کتنی شمعیں گل ہوئیں کتنے بجھے تارے
تب اک خورشید اتراتا ہوا بالائے بام آیا
آنند نرائن ملا
ملاؔ بنا دیا ہے اسے بھی محاذ جنگ
اک صلح کا پیام تھی اردو زباں کبھی
آنند نرائن ملا
مختصر اپنی حدیث زیست یہ ہے عشق میں
پہلے تھوڑا سا ہنسے پھر عمر بھر رویا کیے
آنند نرائن ملا
میں فقط انسان ہوں ہندو مسلماں کچھ نہیں
میرے دل کے درد میں تفریق ایماں کچھ نہیں
آنند نرائن ملا
خدا جانے دعا تھی یا شکایت لب پہ بسمل کے
نظر سوئے فلک تھی ہاتھ میں دامان قاتل تھا
آنند نرائن ملا
خون جگر کے قطرے اور اشک بن کے ٹپکیں
کس کام کے لیے تھے کس کام آ رہے ہیں
آنند نرائن ملا
نظام مے کدہ ساقی بدلنے کی ضرورت ہے
ہزاروں ہیں صفیں جن میں نہ مے آئی نہ جام آیا
آنند نرائن ملا

