ترے فراق میں دل کا عجیب عالم ہے
نہ کچھ خمار سے بڑھ کر نہ کچھ خمار سے کم
عنبرین حسیب عنبر
مانوس بام و در سے نظر پوچھتی رہی
ان میں بسے وہ لوگ پرانے کہاں گئے
عنبرین حسیب عنبر
محبت اور قربانی میں ہی تعمیر مضمر ہے
در و دیوار سے بن جائے گھر ایسا نہیں ہوتا
عنبرین حسیب عنبر
مجھ میں اب میں نہیں رہی باقی
میں نے چاہا ہے اس قدر تم کو
عنبرین حسیب عنبر
پیروی سے ممکن ہے کب رسائی منزل تک
نقش پا مٹانے کو گرد راہ کافی ہے
عنبرین حسیب عنبر
تعلق جو بھی رکھو سوچ لینا
کہ ہم رشتہ نبھانا جانتے ہیں
عنبرین حسیب عنبر
تشہیر تو مقصود نہیں قصۂ دل کی
سو تجھ کو لکھا تیری نشانی نہیں لکھی
عنبرین حسیب عنبر
عمر بھر کے سجدوں سے مل نہیں سکی جنت
خلد سے نکلنے کو اک گناہ کافی ہے
عنبرین حسیب عنبر
زندگی میں کبھی کسی کو بھی
میں نے چاہا نہیں مگر تم کو
عنبرین حسیب عنبر

