EN हिंदी
عالم خورشید شیاری | شیح شیری

عالم خورشید شیر

24 شیر

میں نے بچپن میں ادھورا خواب دیکھا تھا کوئی
آج تک مصروف ہوں اس خواب کی تکمیل میں

عالم خورشید




کسی کو ڈھونڈتے ہیں ہم کسی کے پیکر میں
کسی کا چہرہ کسی سے ملاتے رہتے ہیں

عالم خورشید




کوئی صورت بھی نہیں ملتی کسی صورت میں
کوزہ گر کیسا کرشمہ ترے اس چاک میں ہے

عالم خورشید




کچھ رستے مشکل ہی اچھے لگتے ہیں
کچھ رستوں کو ہم آسان نہیں کرتے

عالم خورشید




لکیر کھینچ کے بیٹھی ہے تشنگی مری
بس ایک ضد ہے کہ دریا یہیں پہ آئے گا

عالم خورشید




مانگتی ہے اب محبت اپنے ہونے کا ثبوت
اور میں جاتا نہیں اظہار کی تفصیل میں

عالم خورشید




تبدیلیوں کا نشہ مجھ پر چڑھا ہوا ہے
کپڑے بدل رہا ہوں چہرہ بدل رہا ہوں

عالم خورشید




تمام رنگ ادھورے لگے ترے آگے
سو تجھ کو لفظ میں تصویر کرتا رہتا ہوں

عالم خورشید




تہذیب کی زنجیر سے الجھا رہا میں بھی
تو بھی نہ بڑھا جسم کے آداب سے آگے

عالم خورشید