وہ ایک لمحہ مجھے کیوں ستا رہا ہے کہ جو
نہیں کے بعد مگر اس کی ہاں سے پہلے تھا
اکبر علی خان عرشی زادہ
سر خار سے سر سنگ سے جو ہے میرا جسم لہو لہو
کبھی تو بھی تو مرے سنگ میل کبھی رنگ میرے سفر کے دیکھ
اکبر علی خان عرشی زادہ
صراحئ مئے ناب و سفینہ ہائے غزل
یہ حرف حسن مقدر لکھا ہے کس کے لیے
اکبر علی خان عرشی زادہ
تمہیں نہیں ہو اگر آج گوش بر آواز
یہ میری فکر یہ میری نوا ہے کس کے لیے
اکبر علی خان عرشی زادہ
وہی گماں ہے جو اس مہرباں سے پہلے تھا
وہیں سے پھر یہ سفر ہے جہاں سے پہلے تھا
اکبر علی خان عرشی زادہ
وہی مایوسی کا عالم وہی نومیدی کا رنگ
زندگی بھی کسی مفلس کی دعا ہو جیسے
اکبر علی خان عرشی زادہ
یہ اک سوال ہے شکوہ نہیں گلہ بھی نہیں
مرے خدا ترا لطف و عطا ہے کس کے لیے
اکبر علی خان عرشی زادہ
ضبط جنوں سے اندازوں پر در تو بند نہیں ہوتے
تو مجھ سے بڑھ کر رسوا ہو یہ بھی تو ہو سکتا ہے
اکبر علی خان عرشی زادہ
یہ پڑی ہیں صدیوں سے کس لیے ترے میرے بیچ جدائیاں
کبھی اپنے گھر تو مجھے بلا کبھی راستے مرے گھر کے دیکھ
اکبر علی خان عرشی زادہ

