تمہیں نہیں ہو اگر آج گوش بر آواز
یہ میری فکر یہ میری نوا ہے کس کے لیے
اکبر علی خان عرشی زادہ
صراحئ مئے ناب و سفینہ ہائے غزل
یہ حرف حسن مقدر لکھا ہے کس کے لیے
اکبر علی خان عرشی زادہ
سر خار سے سر سنگ سے جو ہے میرا جسم لہو لہو
کبھی تو بھی تو مرے سنگ میل کبھی رنگ میرے سفر کے دیکھ
اکبر علی خان عرشی زادہ
عجیب اس سے تعلق ہے کیا کہا جائے
کچھ ایسی صلح نہیں ہے کچھ ایسی جنگ نہیں
اکبر علی خان عرشی زادہ
میں تجھ کو بھول نہ پاؤں یہی سزا ہے مری
میں اپنے آپ سے لیتا ہوں انتقام اپنا
اکبر علی خان عرشی زادہ
لوٹا جو اس نے مجھ کو تو آباد بھی کیا
اک شخص رہزنی میں بھی رہبر لگا مجھے
اکبر علی خان عرشی زادہ
لاؤ اک لمحے کو اپنے آپ میں ڈوب کے دیکھ آؤں
خود مجھ میں ہی میرا خدا ہو یہ بھی تو ہو سکتا ہے
اکبر علی خان عرشی زادہ
کبھی خوشبو کبھی سایہ کبھی پیکر بن کر
سبھی ہجروں میں وصالوں میں مرے پاس رہو
اکبر علی خان عرشی زادہ
جو بار دوش رہا سر وہ کب تھا شوریدہ
بہا نہ جس سے لہو وہ رگ گلو کیا تھی
اکبر علی خان عرشی زادہ

