اس نے پوچھا تھا کیا حال ہے
اور میں سوچتا رہ گیا
اجمل سراج
میں نے اے دل تجھے سینے سے لگایا ہوا ہے
اور تو ہے کہ مری جان کو آیا ہوا ہے
اجمل سراج
مری مثال تو ایسی ہے جیسے خواب کوئی
مرا وجود سمجھ لیجئے عدم جیسے
اجمل سراج
رہ گیا دل میں اک درد سا
دل میں اک درد سا رہ گیا
اجمل سراج
ٹھہر گیا ہے دل کا جانا
دل کا جانا ٹھہر گیا ہے
اجمل سراج
یہ جو ہم کھوئے کھوئے رہتے ہیں
اس میں کچھ دخل ہے تمہارا بھی
اجمل سراج
زندگی ہم سے چاہتی کیا ہے
چاہتی کیا ہے زندگی ہم سے
اجمل سراج
یہ اداسی کا سبب پوچھنے والے اجملؔ
کیا کریں گے جو اداسی کا سبب بتلایا
اجمل سراج
لوگ جیتے ہیں کس طرح اجملؔ
ہم سے ہوتا نہیں گزارا بھی
اجمل سراج

