پھر اس کے بعد پتھر ہو گیا آنکھوں کا پانی
جب اپنے غم میں رونے سے کیا انکار میں نے
احمد شناس
میں اکتشاف کی ہجرت بہشت سے لایا
مری تلاش میں میرا مقام لکھا تھا
احمد شناس
میں خود اپنے آپ سے ہوں بیگانہ سا
بستی کے انسان بھی میرے جیسے ہیں
احمد شناس
میں نے بھی بچوں کو اپنی نسبت سے آزاد کیا
وہ بھی اپنے ہاتھوں سے انسان بنانا بھول گیا
احمد شناس
میں اس کی پہچان ہوں یا وہ میری
کیا سمجھوں اور وہ سمجھائے کیا کیا
احمد شناس
نوجوانوں کا قبیلہ اس کے پیچھے چل پڑا
جرم کر کے بھاگنے والا مثالی ہو گیا
احمد شناس
پس خیال ہوں کتنا ظہور کتنا ہوں
خبر نہیں کہ ابھی خود سے دور کتنا ہوں
احمد شناس
شب و روز نخل وجود کو نیا ایک برگ انا دیا
ہمیں انحراف کا حوصلہ بھی دیا تو مثل دعا دیا
احمد شناس
سات قلزم ہیں مرے سینے میں
ایک قطرے سے ابھارا تھا مجھے
احمد شناس

