نوجوانوں کا قبیلہ اس کے پیچھے چل پڑا
جرم کر کے بھاگنے والا مثالی ہو گیا
احمد شناس
میں اس کی پہچان ہوں یا وہ میری
کیا سمجھوں اور وہ سمجھائے کیا کیا
احمد شناس
میں نے بھی بچوں کو اپنی نسبت سے آزاد کیا
وہ بھی اپنے ہاتھوں سے انسان بنانا بھول گیا
احمد شناس
میں خود اپنے آپ سے ہوں بیگانہ سا
بستی کے انسان بھی میرے جیسے ہیں
احمد شناس
میں اکتشاف کی ہجرت بہشت سے لایا
مری تلاش میں میرا مقام لکھا تھا
احمد شناس
اللہ والا ایک قبیلہ میری نسبت
اور میں اپنے نام نسب سے ناواقف ہوں
احمد شناس
لفظوں کی دسترس میں مکمل نہیں ہوں میں
لکھی ہوئی کتاب کے باہر بھی سن مجھے
احمد شناس
لفظ جب اترا مری آنکھیں منور ہو گئیں
لفظ احمدؔ زندگی سے رابطے کی ڈور ہے
احمد شناس
خود کو پایا تھا نہ کھویا میں نے
بے کراں ذات کنارا تھا مجھے
احمد شناس

