EN हिंदी
احمد راہی شیاری | شیح شیری

احمد راہی شیر

17 شیر

کہیں یہ اپنی محبت کی انتہا تو نہیں
بہت دنوں سے تری یاد بھی نہیں آئی

احمد راہی




زندگی کے وہ کسی موڑ پہ گاہے گاہے
مل تو جاتے ہیں ملاقات کہاں ہوتی ہے

احمد راہی




وہ داستاں جو تری دل کشی نے چھیڑی تھی
ہزار بار مری سادگی نے دہرائی

احمد راہی




وقت کی قبر میں الفت کا بھرم رکھنے کو
اپنی ہی لاش اتاری ہے تمہیں کیا معلوم

احمد راہی




قد و گیسو لب و رخسار کے افسانے چلے
آج محفل میں ترے نام پہ پیمانے چلے

احمد راہی




مرے حبیب مری مسکراہٹوں پہ نہ جا
خدا گواہ مجھے آج بھی ترا غم ہے

احمد راہی




میں تو مسجد سے چلا تھا کسی کعبہ کی طرف
دکھ تو یہ ہے کہ عبادت مری بد نام ہوئی

احمد راہی




میں سوچتا ہوں زمانے کا حال کیا ہوگا
اگر یہ الجھی ہوئی زلف تو نے سلجھائی

احمد راہی




خشک خشک سی پلکیں اور سوکھ جاتی ہیں
میں تری جدائی میں اس طرح بھی روتا ہوں

احمد راہی