میں تھا صدیوں کے سفر میں احمدؔ
اور صدیوں کا سفر تھا مجھ میں
احمد خیال
یہ بھی تری شکست نہیں ہے تو اور کیا
جیسا تو چاہتا تھا میں ویسا نہیں بنا
احمد خیال
یہ بھی اعجاز مجھے عشق نے بخشا تھا کبھی
اس کی آواز سے میں دیپ جلا سکتا تھا
احمد خیال
وہ زہر ہے فضاؤں میں کہ آدمی کی بات کیا
ہوا کا سانس لینا بھی محال کر دیا گیا
احمد خیال
وہ سر اٹھائے یہاں سے پلٹ گیا احمدؔ
میں سر جھکائے کھڑا ہوں سوال ایسا تھا
احمد خیال
وہ دے رہا تھا طلب سے سوا سبھی کو خیالؔ
سو میں نے دامن دل اور کچھ کشادہ کیا
احمد خیال
تو جو یہ جان ہتھیلی پہ لیے پھرتا ہے
تیرا کردار کہانی سے نکل سکتا ہے
احمد خیال
تمہاری جیت میں پنہاں ہے میری جیت کہیں
تمہارے سامنے ہر بار ہارتا ہوا میں
احمد خیال
سکوت توڑنے کا اہتمام کرنا چاہیئے
کبھی کبھار خود سے بھی کلام کرنا چاہیئے
احمد خیال

