EN हिंदी
آغا شاعر قزلباش شیاری | شیح شیری

آغا شاعر قزلباش شیر

12 شیر

ابرو نہ سنوارا کرو کٹ جائے گی انگلی
نادان ہو تلوار سے کھیلا نہیں کرتے

آغا شاعر قزلباش




بڑے سیدھے سادھے بڑے بھولے بھالے
کوئی دیکھے اس وقت چہرا تمہارا

آغا شاعر قزلباش




ہمیں ہیں موجب باب فصاحت حضرت شاعرؔ
زمانہ سیکھتا ہے ہم سے ہم وہ دلی والے ہیں

آغا شاعر قزلباش




اک بات کہیں تم سے خفا تو نہیں ہو گے
پہلو میں ہمارے دل مضطر نہیں ملتا

آغا شاعر قزلباش




اس لئے کہتے تھے دیکھا منہ لگانے کا مزہ
آئینہ اب آپ کا مد مقابل ہو گیا

آغا شاعر قزلباش




کلیجے میں ہزاروں داغ دل میں حسرتیں لاکھوں
کمائی لے چلا ہوں ساتھ اپنے زندگی بھر کی

آغا شاعر قزلباش




کس طرح جوانی میں چلوں راہ پہ ناصح
یہ عمر ہی ایسی ہے سجھائی نہیں دیتا

آغا شاعر قزلباش




لو ہم بتائیں غنچہ و گل میں ہے فرق کیا
اک بات ہے کہی ہوئی اک بے کہی ہوئی

آغا شاعر قزلباش




ملنا نہ ملنا یہ تو مقدر کی بات ہے
تم خوش رہو رہو مرے پیارے جہاں کہیں

آغا شاعر قزلباش