EN हिंदी
عبدالرحمان احسان دہلوی شیاری | شیح شیری

عبدالرحمان احسان دہلوی شیر

46 شیر

مے کدہ میں عشق کے کچھ سرسری جانا نہیں
کاسۂ سر کو یہاں گردش ہے پیمانے کی طرح

عبدالرحمان احسان دہلوی




نماز اپنی اگرچہ کبھی قضا نہ ہوئی
ادا کسی کی جو دیکھی تو پھر ادا نہ ہوئی

عبدالرحمان احسان دہلوی




نہ پایا گاہ قابو آہ میں نے ہاتھ جب ڈالا
نکالا بیر مجھ سے جب ترے پستاں کا منہ کالا

عبدالرحمان احسان دہلوی




محتسب بھی پی کے مے لوٹے ہے میخانے میں آج
ہاتھ لا پیر مغاں یہ لوٹنے کی جائے ہے

عبدالرحمان احسان دہلوی




مری بات چیت اس سے احساںؔ کہاں ہے
نہ اس کا دہاں ہے نہ میری زباں ہے

عبدالرحمان احسان دہلوی




مزے کی بات تو یہ ہے کہ بے مزا ہے وہ دل
تمہاری بے مزگی کا جسے مزہ نا لگے

عبدالرحمان احسان دہلوی




کیوں نہ رک رک کے آئے دم میرا
تجھ کو دیکھا رکا رکا میں نے

عبدالرحمان احسان دہلوی




کس کو اس کا غم ہو جس دم غم سے وہ زاری کرے
ہاں مگر تیرا ہی غم عاشق کی غم خواری کرے

عبدالرحمان احسان دہلوی




کچھ تمہیں ترس خدا بھی ہے خدا کی واسطے
لے چلو مجھ کو مسلمانو اسی کافر کے پاس

عبدالرحمان احسان دہلوی