EN हिंदी
یہی رسی ملی تھی | شیح شیری
yahi rassi mili thi

نظم

یہی رسی ملی تھی

شارق کیفی

;

لٹکنے کو یہی رسی ملی تھی
زمیں پر گر کے میں ہنسنے لگا اس موت پر

ابھی کچھ دیر پہلے
جو مجھے اتنی بھیانک لگ رہی تھی