EN हिंदी
وہ سارے لفظ جھوٹے تھے | شیح شیری
wo sare lafz jhuTe the

نظم

وہ سارے لفظ جھوٹے تھے

شارق کیفی

;

محبت کی کمی
لفظوں سے پوری کر رہا تھا میں

مگر جب آج
میں سچ مچ میں اس کو چاہتا ہوں

اسے مجھ سے شکایت ہے خموشی کی
کوئی بتلائے اس کو

یہ خموشی ہی تو سچی ہے
وہ سارے لفظ جھوٹے تھے