محبت کی کمی
لفظوں سے پوری کر رہا تھا میں
مگر جب آج
میں سچ مچ میں اس کو چاہتا ہوں
اسے مجھ سے شکایت ہے خموشی کی
کوئی بتلائے اس کو
یہ خموشی ہی تو سچی ہے
وہ سارے لفظ جھوٹے تھے
نظم
وہ سارے لفظ جھوٹے تھے
شارق کیفی
نظم
شارق کیفی
محبت کی کمی
لفظوں سے پوری کر رہا تھا میں
مگر جب آج
میں سچ مچ میں اس کو چاہتا ہوں
اسے مجھ سے شکایت ہے خموشی کی
کوئی بتلائے اس کو
یہ خموشی ہی تو سچی ہے
وہ سارے لفظ جھوٹے تھے