EN हिंदी
وصال | شیح شیری
visal

نظم

وصال

ثروت حسین

;

خوشبو کی آواز سنی
غنچہ لب کے کھلتے ہی

پانی پر کچھ نقش بنے
پرتو شاخ کے ہلتے ہی

ساری باتیں بھول گئے
اس سے آنکھیں ملتے ہی