سایہ ہے گہری چپ کا اکیلے مکان پر
دل مطمئن بہت ہے مگر اس گمان پر
روشن ہے اک ستارہ ہمارے بھی نام کا
پیڑوں کی چوٹیوں سے ادھر آسمان پر
نظم
ستارے کا گمان
ثروت حسین
نظم
ثروت حسین
سایہ ہے گہری چپ کا اکیلے مکان پر
دل مطمئن بہت ہے مگر اس گمان پر
روشن ہے اک ستارہ ہمارے بھی نام کا
پیڑوں کی چوٹیوں سے ادھر آسمان پر