EN हिंदी
ستارے کا گمان | شیح شیری
sitare ka guman

نظم

ستارے کا گمان

ثروت حسین

;

سایہ ہے گہری چپ کا اکیلے مکان پر
دل مطمئن بہت ہے مگر اس گمان پر

روشن ہے اک ستارہ ہمارے بھی نام کا
پیڑوں کی چوٹیوں سے ادھر آسمان پر