EN हिंदी
سانپ کو مت جگا | شیح شیری
sanp ko mat jaga

نظم

سانپ کو مت جگا

ستیہ پال آنند

;

سانپ سویا ہوا ہے بڑی دیر سے
سردیوں کی اندھیری پٹاری میں کنڈل سا لپٹا ہوا

اپنی اکلوتی بند آنکھ کھولے ہوئے
پچھلی رت کے کسی بین کے سر سے سرشار

پھن کو اٹھانے کے خوابوں سے دو چار ہے
سانپ کو مت جگا، اے شکھنڈی ٹھہر

سانپ ایک بار بیدار ہو کر اٹھا
تو وہ عادت سے مجبور پھن کو اٹھائے ہوئے

آنے والے کسی سرد موسم تلک
بیضوی بانبیاں ڈھونڈھتا

گھاس میں جا بجا لپلپاتا پھرے گا