EN हिंदी
پانی کا ہاتھ | شیح شیری
pani ka hath

نظم

پانی کا ہاتھ

ثروت حسین

;

اجلے پرندو وہ دن کتنا میلا ہوگا
آسمان بہت دور دور تک پھیلا ہوگا

میں کشتی کے فرش پہ گر جاؤں گا تھک کر
پانی کا ہاتھ سلا دے گا مجھے تھپک کر