EN हिंदी
نیند کی ماتی | شیح شیری
nind ki mati

نظم

نیند کی ماتی

شہناز نبی

;

وہ نیند کی ماتی جس کی آنکھیں
شام ڈھلے نارنجی ہوتیں

آتے جاتے خواب انوکھے
پلکیں جس کی چھوتے رہتے

جس کی کھڑکی کے پردوں پر
چاند کا بھی نہ سایہ پڑتا

جس کے کمرے سے بچ بچ کر
سورج اپنا رستہ چلتا

جس کے آنگن چنچل چڑیاں
سرگوشی میں باتیں کرتیں

جس کے ذہن میں سوچ کی گرہیں پڑتیں
اور کھل جاتی تھیں

جس کے دل پر یاس کے بادل چھاتے
اور اڑ جاتے تھے

اس کی آنکھیں پھٹی پھٹی سی
اس کا چہرہ بجھا بجھا