خوشی چھوتی نہیں
دکھ بستا ہے
من مسافر ہے
جانے کن زمانوں کی
طراوت کھوجنے
ہر پل سفر میں رہتا ہے
بنجر سر زمینوں میں
خنک چشموں کے
خواب بو دیتا ہے
تعبیریں پھوٹتی نہیں
دکھ اگ جاتا ہے
دکھ جب اگنے لگتا ہے
من کی ساری نمی
لے لیتا ہے
آنکھوں کی نمی اور خواب
دونوں سوکھ جاتے ہیں
اور دکھ
بس جاتا ہے
نظم
نظم
شبنم عشائی

