کاش یوں ہوتا
کہ وفا
من کا فرن چاک کر کے
فرار پاتی!
بخیے ادھیڑ کر
اودھم جوت کے
من کو چھوڑ جاتی
انتظار تمام
کٹ جاتے
من کی آنکھ لگ جاتی!
نظم
نظم
شبنم عشائی
نظم
شبنم عشائی
کاش یوں ہوتا
کہ وفا
من کا فرن چاک کر کے
فرار پاتی!
بخیے ادھیڑ کر
اودھم جوت کے
من کو چھوڑ جاتی
انتظار تمام
کٹ جاتے
من کی آنکھ لگ جاتی!